سورة النجم - آیت 8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر وہ نزدیک ہوا اور اتر آیا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤) جبریل (علیہ السلام) پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوئے، تاکہ ان تک اللہ کی وحی پہنچائیں اور افق کی بلندیوں سے ان کی طرف جھکے اور ان سے اتنا قریب ہوگئے کہ ان کا درمیانی فاصلہ صرف دوگز کے برابر یا اس سے بھی کم رہ گیا، ام المومنین عائشہ، ابن معسود، ابو ذر اور ابوہریرہ (رض) نے یہی تفسیر بیان کی ہے، امام بخاری نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔ ضحاک نے (دنا فتدلی) کا فاعل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرار دیا ہے، یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے رب کے بہت ہی قریب پہنچ گئے تو سجدہ میں گر گئے اس قول کے مطابق (فکان قاب فوسین او ادنی) کا مفہوم یہ ہوگا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب سے صرف دو گز یا اس سے بھی کم فاصلے پر رہ گئے۔