سورة آل عمران - آیت 173

الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

وہ لوگ جن سے کہنے والوں نے کہا تھا : یہ ( مکہ کے کافر) لوگ تمہارے ( مقابلے) کے لیے (پھر سے) جمع ہوگئے ہیں، لہذا ان سے ڈرتے رہنا، تو اس (خبر) نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بول اٹھے کہ : ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ (٥٩)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

سیرت ابن ہشام میں ہے کہ معبد الخزاعی جب ابو سفیان اور اس کی فوج کو مسلمانوں سے مرعوب کرنے کے بعد واپس ہوگئے، تو قبیلہ عبدالقیس کا ایک قافلہ ابو سفیان کے پاس سے گذرا، اس نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں جا رہے ہو، کہا مدینہ، پوچھا کس لیے ؟ کہا : خوراک حاصل کرنے کے لیے، ابو سفیان نے کہا کہ تم لوگ محمد کو ہمارا ایک پیغام پہنچا دو، اس کے بدلے ہم تمہیں عکاظ کے بازار میں کشمش دیں گے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے، کہا کہ جب محمد سے ملاقات ہو تو کہہ دینا کہ ہم نے باقی مسلمانوں کا صفایا کرنے کے لیے آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ عبدالقیس کا یہ قافلہ حمراء الاسد میں ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جا ملا، اور ابو سفیان کا پیغام پہنچا دیا، تو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں نے کہا، حسبنا اللہ و نعم الوکیل، کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور بہتر کارساز ہے، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت میں پہلے (الناس) سے مراد قافلہ عبدالقیس اور دوسرے سرے مراد ابو سفیان اور اس کا لشکر ہے، اس خبر سے مسلمانوں کا ایمان بڑھ گیا، اور اللہ پر اعتماد اور توکل میں اضافہ ہوگیا، احادیث میں حسبنا اللہ و نعم الوکیل کی بڑی فضیلت آئی ہے، امام بخاری نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل، ابراہیم نے کہا جب وہ آگ میں ڈالے جانے لگے، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا جب لوگوں نے کہا کہ مشرکینِ قریش اپنی پوری قوت مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے جمع کر رہے ہیں۔