سورة الفتح - آیت 5

لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِندَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مومنوں کے دلوں پہ یہ سکینت اس لیے نازل فرمائی) تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسی جنت میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کی برائیاں ان سے دور کردے اور یہ (گناہوں کی معافی اور جنت میں داخل ہونا) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی کامیابی ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤) ان حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ طاعت و بندگی اور صبر و جہاد کے ثواب کے طور پر اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور عورتوں کو ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ان میں وہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اور ان کے گناہوں کو معاف کر دے گا اور اللہ کے نزدیک یہی سب سے بڑی کامیابی ہے، کیونکہ دخول جنت کے بعد ہر غم دور ہوجائے گا اور ہر خوشی حاصل ہوجائے گی۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ گناہوں کی معافی سے پہلے دخول جنت کی بشارت، اہل جنت کے دلوں کو جلد از جلد خوشی پہچانے کی غرض سے دی گئی ہے۔ بخاری و مسلم نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ حدیبیہ سے واپسی کے وقت، جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : (لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذبک وما تاخر) ” تاکہ اللہ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے“ تو صحابہ کرام نے کہا، اے اللہ کے رسول ! مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کا انجام بتا دیا، لیکن ہمارا کیا ہوگا، تو آیت (٥) (لیدخل المومنین و المومنات جنات تجری من تحتھا الانھار) سے (فوزا عظیماً) تک نازل ہوئی، انتہی یعنی مسلمانوں کو بھی ان کا انجام بتا دیا گیا کہ وہ ایسی جنتوں میں داخل ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔