سورة الزخرف - آیت 46

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں کے ساتھ فرعون اور ان کے درباریوں کے پاس بھیجا اور اس نے جاکر کہا میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(20) اہل قریش کا حال فرعون کے حال کے مشابہ تھا، اہل قریش نے کہا کہ اگر اللہ کو رسول بنانا تھا تو مکہ کے ولید بن مغیرہ یا طائف کے عروہ بن مسعود کے مانند کسی مال و جاہ والے کو بناتا، نہ کہ محمد جیسے فقیر اور بے حیثیت آدمی کو اور فرعون نے بھی کہا تھا کہ میں بہتر ہوں یا موسیٰ جیسا حقیر انسان اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرعون و موسیٰ کا واقعہ بیان کر کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیحت کی ہے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے صبر و ضبط سے کام لیا، آپ بھی ہمت نہ ہاریئے اور لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچاتے رہئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو معجزات دے کر فرعون اور فرعونیوں کے پاس بھیجا انہوں نے اس سے کہا کہ میں اس اللہ کا پیغامبر ہوں جو سارے جہان کا پالنے والا ہے، اس کے سوا کوئی بندگی کا حقدار نہیں ہے، نہ اس کے سوا کسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ رب العالمین کے بندوں کو اپنا بندہ بنائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی دعوت توحید اور صدق رسالت کے دلائل پیش کئے، تو فرعون اور فرعونی ان کا مذاق اڑانے لگے، بالکل اہل قریش کی طرح جو آپ کا اور آپ کی دعوتی تقریروں اور قرآن کریم کا مذاق اڑاتے ہیں تو آپ کو ان کی ان اوچھی حرکتوں سے بد دل نہیں ہونا چاہئے اور دعوت کے کام میں سستی نہیں ہونی چاہئے، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی جانب سے نوع بہ نوع تکلیفوں کو برداشت کیا اور اپنی دعوت اس کے سامنے مختلف انداز میں پیش کرتے رہے۔