سورة الزخرف - آیت 22

بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّهْتَدُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نشانہائے قدم پر چل رہے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨) ان کے فعل شنیع پر مزید نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے پاس فرشتوں اور بتوں کی پرستش کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے، صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اسی دین پر عمل کرتے پایا ہے، اس لئے ہم بھی اسی پر قائم رہیں گے۔ آیت (23) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قریش کے کافروں نے یہ کئی نئی بات نہیں کہی ہے۔ بلکہ ہر دور کے کفار اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کا یہی سبب بیان کرتے رہے ہیں، یعنی آباء و اجداد کی اندھی تقلید قدیم گمراہی ہے، جس میں ہر دور کے اہل کفر مبتلا رہے ہیں۔ اس لئے اے میرے نبی ! آپ کو اہل قریش کے کفر و شرک پر ملول خاطر نہیں ہونا چاہئے، کرخی لکھتے ہیں کہ آیت (23) میں تقلید آباء پر جمے رہنے کا قول، ناز و نعم والوں کی طرف اس بات کی وضاحت کے لئے منسوب کیا گیا ہے کہ ناز و نعم ہی نے انہیں غور و فکر کرنے کے بجائے تقلید کی راہ پر ڈال دیا ہے۔