سورة آل عمران - آیت 135

وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بے حیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کرگزرتے ہیں تو فورا اللہ کو یاد کرتے ہیں کہ اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے؟ اور یہ اپنے کیے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

93۔ اہل جنت کی ایک اور صفت یہ بتائی گئی کہ جب ان سے کبیرہ یا صغیرہ گناہ کا ارتکاب ہوجاتا ہے، تو انہیں اللہ سے حیا آتی ہے، اور اس کے عقاب کا ڈر لاحق ہوجاتا ہے، تو فوراً اللہ سے معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے علاوہ گناہوں کو کون معاف کرسکتا ہے؟ اس کے سوا کسے اس کا اختیار حاصل ہے؟ امام احمد نے ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے سنا ہے کہ ابلیس نے اپنے رب سے کہا تیری عزت و جلال کی قسم، میں بنی آدم کو جب تک ان کی سانس چلتی رہے گی گمراہ کرتا رہوں گا۔ تو اللہ نے کہا، میری عزت و جلال کی قسم، جب تک وہ مجھ سے مغفرت چاہتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔ اور اس طلب مغفرت والی صفت کی تکمیل یہ ہے کہ وہ جانتے ہوئے گناہ پر اصرار نہیں کرتے، یعنی اگر گناہ ہوجاتا ہے تو استغفار کرتے ہیں، کیونکہ دل سے استغفار کرلینے کے بعد اگر دوبارہ اسی گناہ کا ارتکاب ہوجاتا ہے، تو اسے گناہ پر اصرار نہیں کہا جاتا، ابو داود، ترمذی، بزار اور ابویعلی نے ابوبکر (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس نے اللہ سے مغفرت مانگ لی اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا، چاہے وہ دن میں سو بار اس کا ارتکاب کرے، حافظ ابن کثیر نے اس حدیث کو ” حسن“ کہا ہے۔ امام احمد نے علی بن ابی طالب (رض) سے اور انہوں نے ابوبکر (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے، تو اس کے بعد اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ سے معاف کردیتا ہے۔