سورة فصلت - آیت 37

وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

رات اور دن اور سوج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں تم نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا اگر تم فی الواقع اسی کی عبادت کرنے والے ہو

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٥) اس آیت کریمہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض عظیم نشانیوں کو بیان کرنا شروع کیا ہے جو اس کے کمال قدرت اور اس کے علم و حکمت پر دلالت کرتی ہیں اور جو انسان کو دعوت ایمان دیتی ہیں، لیل و نہار کی گردش اور شمس و قمر کا نور اور ان کا ایک محکم نظام کے مطابق اپنے اپنے دائرے میں چلتے رہنا اور اس میں ذرہ برابر کا فرق نہ آنا، یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں اور شمس و قمر اللہ کے پیدا کردہ ہیں، اس لئے بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ لوگو ! آفتاب و ماہتاب کی پرستش نہ کرو، بلکہ اس اللہ کی عبادت کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور عبادت میں اس کے ساتھ کسی غیر کو شریک نہ بناؤ۔ آیت (٣٨) میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا ہے کہ اگر ان تمام نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود مشرکین مکہ کبر و غرور کی راہ اختیار کرتے ہیں، اور اللہ کے لئے بندگی کو خالص نہیں کرتے، تو انہیں بتا دیجیے کہ فرشتے رات دن آپ کے رب کی تسبیح میں مشغول ہیں اور کبھی بھی نہیں تھکتے ہیں۔