سورة آل عمران - آیت 128

لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغبر) تمہیں اس فیصلے کا کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے کیونکہ یہ ظالم لوگ ہیں۔ *

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

91۔ یہ ایک جملہ معترضۃ ہے، جس سے مقصود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متنبہ کرنا ہے کہ کہیں آپ کے ذہن و دماغ میں یہ بات نہ آجائے کہ آپ کی ذات بھی کچھ مؤثر ہے، اور آپ کے عقیدہ توحید میں فرق آجائے، آپ تو ایک انسان ہیں آپ کا کام اللہ کے حکم کے مطابق انسانوں کو ڈرانا ہے، ان کی بخشش یا عذاب کا معاملہ تو صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کسی دن فجر کی نماز میں کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! فلاں اور فلاں قبائل عرب پر لعنت بھیج، تو یہ آیت اتری کہ (لیس لک من الامر شیء) ابن عمر (رض) سے بخاری اور احمد نے روایت کی ہے کہ جب جنگ احد میں آپ زخمی ہوئے، تو کہا کہ وہ قوکیسے فلاح پائے گی جس نے اپنی نبی کے ساتھ ایسا کیا، تو یہ آیت اتری، آیت 129 میں اسی مضمون کی تائید ہے، کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک اللہ ہے، وہ جسے چاہے گا معاف کردے گا، اور جسے چاہے گا عذاب دے گا، کسی بندے کو، چاہے وہ نبی مرسل ہو یا ولی مکرم، یہ اختیار حاصل نہیں کہ کسی کی قسمت کا فیصلہ کرے، اور کسی کو جنت میں بھیج دے اور کسی کو جہنم میں۔