سورة غافر - آیت 6

وَكَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ أَصْحَابُ النَّارِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اسی طرح ان کافروں پر بھی تیرے رب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ اہل دوزخ ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) لیکن جو لوگ اللہ او اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے تقویٰ اور عمل صالح کی راہ اختیار کرلی ہے، ان کا انجام بخیر ہوگا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ فرشتے جنہوں نے عرش الٰہی کو تھام رکھا ہے اور دیگر فرشتے جنہیں رب العالمین کا قرب حاصل ہے، سب اپنے رب کی بڑائی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی ان کا رب نہیں ہے اور ہر دم اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں اور اہل ایمان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔ مومنوں اور ان فرشتوں کے درمیان ایمان کا رشتہ ان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ دنیا کے اہل ایمان انسان کے لئے رب العالمین کے عرش کے نزدیک دعا اور طلب استغفار کرتے رہیں، گویا یہ کام بھی ان کے دائمی و ظیفہ کا ایک حصہ ہے۔ فرشتے کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! تیری رحمت ہر چیز کو شامل ہے اور تیرے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، تو اپنے ان بندوں کو معاف کر دے، جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی ہے اور اسلام کی راہ اختیار کرلی ہے اور تو انہیں جہنم کی آگ سے بچا لے اسے ہمارے رب ! تو انہیں عدن کے ان باغوں میں داخل کر دے جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے ساتھ ان کے ان آباء و اجداد، بیویوں اور اولاد کو بھی جنہوں نے نیکی اور صلاح کی راہ اختیار کی، تاکہ دخول جنت سے انہیں جو خوشی حاصل ہوئی ہے اس کی تکمیل ہوجائے۔ اے ہمارے رب ! تو ہر چیز پر غالب ہے اور بڑی حکمتوں والا ہے۔ اے ہمارے رب ! تو انہیں برے اعمال کی سزا سے بچا لے ان کے گناہوں پر پردہ ڈال دے، تو قیامت کے دن جسے برے اعمال کی جزا سے بچا لے گا، اسے ہی درحقیقت تیری رحمت ڈھانک لے گی۔ مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کے لئے سب سے زیادہ خیر خواہ فرشتے ہیں اور سب سے بدخواہ شیاطین ہیں۔ انہوں نے اسی آیت کے پیش نظر یہ بات کہی ہے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہنم سے نجات اور دخول جنت ہی سب سے بڑی کامیابی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران آیت (١٨٥) میں فرمایا ہے : (فمن زخرح عن الناروا دخل الجنۃ فقد فاز) ” جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے گا اور جنت میں داخل کردیا جائے گا وہ بے شک کامیاب ہوجائے گا۔ “