سورة آل عمران - آیت 120

إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا ۖ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو ان کو برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی گزند پہنچے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں، اگر تم صبر اور تقوی سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے ( علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

85۔ کافروں کی مسلمانوں سے شدت عداوت کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے، اللہ نے فرمایا کہ تم ان کافروں سے دوستی رکھتے ہو، جب کہ تم سے ان کی عداوت کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی بھلائی تمہیں چھو بھی جاتی ہے تو انہیں تکلیف ہوتی ہے، اور اگر تم پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے، تو مارے خوشی کے آپے سے باہر نکلے جاتے ہیں۔ تو بھلا ایسوں کو دوست بنانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کافروں کے شر و فساد سے بچنے کا یہ طریقہ بتایا کہ مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے آزمائشوں پر صبر کی عادت ڈالنی چاہئے، ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے، تقوی اور بندگی کی راہ اختیار کرنی چاہئے، اور غیر مسلموں سے مدد نہیں لینی چاہئے، اگر وہ ایسا کریں گے تو کافروں کا مکر و فریب انہیں نقصان نہیں پہنچائے گا، اس لیے کہ جو اللہ پر توکل کرے گا، آزمائشوں پر صبر کرے گا اور صرف اسی سے مدد مانگے گا، وہ یقیناً اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگا۔ اللہ اسے کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا، اور دشمن کے مقابلہ میں اسے فتح و نصرت عطا کرے گا، اور جو غیروں سے مدد چاہے گا، اللہ اسے اس کے نفس کے حوالے کردے گا، اور اپنی نصرت سے اسے محروم کردے گا۔ کاش مسلمان آج بھی یہ نسخہ استعمال کر کے دیکھتے اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنہ جبہ سائی نہ کرتے، بڑی طاقتوں کو اپنا معبود نہ بناتے، اللہ کے بجائے ان سے مدد نہ مانگتے، تو اللہ کا وعدہ ہمیشہ کے لیے ایک ہی ہے، فتح و کامیابی ان کا قدم چومتی، عزت و سیادت ان کے سر کا تاج ہوتی اور دوسری قومیں ان کے سامنے گھٹنا ٹیک دیتیں، کیا کوئی ہے جو اس آواز پر کان دھرے؟