سورة ص - آیت 36

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تب ہم نے ہوا کو اس کے لیے مسخر کردیا، وہ ہوا اس کے حکم سے جہاں وہ جانا چاہتا، نرم رفتار سے چلتی

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(19) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا جو ان کے حکم کے مطابق ان کے تخت کو یا ہوا میں تیرنے والے ان کے سفینے کو جہاں چاہتے لے کر جاتی، اس یادبانی سفینہ کی رفتار صبح کے وقت ایک ماہ کی اور شام کے وقت ایک ماہ کی ہوتی تھی۔ اسی طرح اللہ نے ان کے لئے شیاطین الجن کو بھی مسخر کردیا تھا، جو ان کے حکم کے مطابق مختلف کام کیا کرتے تھے، ان میں کوئی معمار تھا، تو کوئی سمندر میں غوطے لگا کر موتی نکالتا تھا اور ان میں سے جو نافرمانی کرتا تھا انکے ہاتھوں میں بیڑیاں ڈال کر ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔ یحییٰ بن سلام کہتے ہیں کہ ایسا صرف کافرجنوں کے ساتھ کرتے تھے، اور جب وہ مسلمان ہوجاتے تھے تو انہیں آزاد کردیتے تھے۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے رب سے جو کچھ مانگا انہیں عطا کیا اور ان سے کہہ دیا کہ اب آپ جسے جو چاہئے اور جتنا چاہئے دیجیے اور جسے چاہئے نہ دیجیے، آپ سے اس کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔ (بغیر حساب) کا ایک دوسرا معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ” ہماری نعمتیں آپ کے لئے بے حساب ہیں۔“ (آیت (٠٤) میں اللہ نے فرمایا کہ ان ظاہری دنیوی نعمتوں کے علاوہ انہیں مجھ سے قربت بھی حاصل ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا انجام اچھا ہوگا۔