سورة الفاتحة - آیت 4

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو اس دن کا مالک ہے جس دن کاموں کا بدلہ لوگوں کے حصے میں آئے گا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اللہ تعالیٰ جس طرح قیامت کے دن کا مالک ہے اسی طرح وہ دوسرے تمام دنوں کا مالک ہے۔ یہاں قیامت کے دن کا ذکر بالخصوص اس لیے آیا کہ اس دن تمام مخلوقات کی بادشاہت ختم ہوجائے گی۔ تمام شاہانِ دنیا اور ان کی رعایا، تمام آزاد و غلام اور چھوٹے بڑے سب برابر ہوجائیں گے اور صرف ایک اللہ کی ملوکیت و بادشاہت باقی رہے گی، سبھی اس کے جلال و جبروت کے سامنے سرنگوں ہوں گے، اس کی جنت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لمن الملک الیوم اللہ الواحد القہار۔ قیامت کے دن اللہ وپچھے گا آج کس کی بادشاہت ہے۔ پھر خود ہی جواب دے گا صرف اللہ کی، جو ایک ہے اور قہار ہے۔ (غافر :16) قیامت کے دن کو یوم الدین اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اعمال کے جزا کا دن ہوگا، جس نے اس دنیا میں جیسا کیا ہوگا اسے اس کا بدلہ مل کر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یومئذ تعرضون لا تخفی منکم خافیہ، جس دن تم لوگ اللہ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے، اس دن تم سے کوئی چیز مخفی نہ رہے گی۔ الحاقہ :18۔