سورة يس - آیت 60

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے اولاد آدم ! کیا ہم نے تم سے اس کا عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجا سے باز رہو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے (١١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

30 پھر اللہ تعالیٰ ان سے بطور زجر و توبیخ کہے گا کہ کیا میں نے اپنے رسولوں کی زبانی تمہیں یہ نصیحت نہیں کی تھی کہ تم لوگ شیطان کی عبادت نہ کرو، اس لئے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، صرف میری عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے، یہی وہ دین اسلام ہے جو اپنے ماننے والوں کو جنت تک پہنچاتا ہے۔ آیت ٢٦ میں انسانوں سے شیطان کی عداوت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اس مرد ود نے تو بے شمار لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اس لئے وہ تمہارا دوست کیسے بن سکتا ہے؟ کیا اتنی سی بات تمہارے دل و دماغ میں نہیں آتی ہے، آیات (٣٦، ٤٦) میں کہا گیا کہ اے اہل کفر و شرک ! اب اپنے انجام کو بھگتو اور اس جہنم میں داخل ہوجاؤ جس کی تم تمام زندگی بھ رتکذیب کرتے رہے تھے۔