سورة يس - آیت 53

إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

بس وہ ایک ہی زور کی آواز ہوگی جس سے وہ یکایک ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

27 یہ وہی دوسرا صور ہوگا جس کا ذکر ابھی اوپر آچکا ہے اور مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور انہیں میدان محشر کی طرف ہانک کرلے جانا، بہت ہی آسان ہے پہلی چیخ کے ذریعہ تمام زندہ لوگ موت کے گھاٹ اتار دیئے جائیں گے اور دوسری چیخ کے ذریعہ دوبارہ زندہ ہو کر میدان محشر کی طرف دوڑ پڑیں گے جہاں کافروں کو ان کے کفر کا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا، بلکہ دنیا میں انہوں نے جس کفر و شرک اور ظلم و معاصی کا ارتکاب کیا ہوگا اسی کا پورا پورا بدلہ انہیں چکا دیا جائے گا۔