سورة سبأ - آیت 40

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جس روز اللہ سب انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے (١١)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

32 اس آیت کا تعلق آیت 31 میں (ولو تری اذا لظالمون موقوفون) سے ہے اور خطاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے اور مفہوم یہ ہے کہ آپ اس دن کو یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ تمام جنوں اور انسانوں کو میدان محشر میں اکٹھا کے گا، پھر کافروں کو ڈانٹنے اور پھٹکارنے کے لئے فرشتوں سے مخاطب ہو کر پوچھے گا (جنہیں مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر ان کی عبادت کرتے رہے تھے) کہ اے فرشتوں ! کیا تم میری طرح معبود ہو، اور کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے؟ تو فرشتے فوراً اللہ کے سوا معبود ہونے سے اپنی برأت کا اظہار کردیں گے اور اللہ کی پاکی بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ تو ہی ہمارا مولی ہے، ہم تیرے بندے ہیں اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں ہم نے انہیں کبھی نہیں کہا کہ وہ ہماری عبادت کریں یہ لوگ درحقیقت ابلیس اور دیگر شیاطین کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انہی کی بات مانتے تھے۔ یہاں فرشتوں کا ذکر بطور خاص مشرکین کے اس عقیدے کی وجہ سے کیا گیا ہے کہ ان کے اصنام درحقیقت اللہ کے مقرب فرشتوں کی شکل کے بنائے گئے ہیں، تاکہ وہ فرشتے ان کے سفارشی بنیں۔