سورة السجدة - آیت 23

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُن فِي مِرْيَةٍ مِّن لِّقَائِهِ ۖ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی لہذا آپ اس کتاب کے ملنے میں کسی قسم کاشک نہ کیجئے اور ہم نے اس تورات کو بنی اسرائیل کے لیے رہنما بنایا تھا (٦)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(17) آیات (٢/٣) میں اس حقیقت کو آشکارا کیا گیا تھا کہ یہ قرآن کسی انسان کا نہیں، بلکہ رب العالمین کا کلام ہے، اسی نے اسے بذریعہ وحی اپنے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے، پھر چند آیات میں معاد و آخرت، جنت و جہنم، نیک و بد اور ان کا انجام بیان کرنے کے بعد، اب دوبارہ اسی ابتدائی مضمون کی طرف کلام کا رخ پھیر دیا گیا ہے کہ اے میرے نبی ! اگر ہم نے آپ کو قرآن کریم جیسی عظیم ترین کتاب دی ہے تو اس میں اہل مکہ کے لئے حیرت و استعجاب کی کیا بات ہے؟ ہم نے اس سے پہلے اپنے بندے اور رسول موسیٰ کو بھی تو ایک عظیم کتاب دی ھی، جس کا علم کفار مکہ کو ہے اور اس کتاب کو ہم نے نبی اسرائیل کے لئے رشد و ہدایت کا ذریعہ بنایا تھا اور ان میں ایسے علماء پیدا کئے جو لوگوں کی ہمارے دین کی طرف رہنمائی کرتے تھے اور اس راہ میں انہیں جو تکلیف پہنچتی تھی اسے انگیز کرتے تھے، صبر کرتے تھے اور ہماری کتاب کی صداقت و حقانیت پر پورا یقین رکھتے تھے نہ ان کے صبر و استقامت میں فرق آتا تھا اور نہ ہی وہ ہماری آیتوں میں شک و شبہ کرتے تھے۔ اس لئے آپ کے دور کے لوگوں کو بھی چاہئے کہ قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے پر ایمان لے آئیں۔ اس میں بیان کردہ رشد و ہدایت سے فائدہ اٹھائیں، دوسروں کو ایمان و توحید کی دعوت دیں اور اس راہ میں جو تکلیف بھی اٹھانی پڑے اسے خندہ پیشانی سے برداشت کریں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس میں اہل اسلام کے لئے زبردست دھمکی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے لوگ تورات کی تحریف، سچے دین سے انحراف اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دینے کی وجہ سے اللہ کی غضب کے مستحق بن گئے، اسی طرح اس امت کے جو لوگ قرآن و سنت سے انحراف کریں گے، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سیر وکنا چھوڑ دیں گے، صبر واستقامت اور ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ قوم یہود کی طرح ان پر بھی ذلت و رسوائی مسلط کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ(الرعد آیت (١١) میں فرمایا ہے : (ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیرو امابانفسھم) ” اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہیں بدل لیتی ہے۔ “