سورة الروم - آیت 28

ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

وہ تمہارے لیے خود تمہاری ذات سے ہی ایک مثال بیان کرتا ہے کیا اس مال ومتاع میں جو ہم نے تمہیں دیا ہے تمہارے غلام تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہیں؟ اور تم ان سے اسی طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟ ہم اس طرح توحید کے دلائل ان لوگوں کے سامنے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں (٧)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٧) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے لئے انسانوں کے حالات زندگی سے ماخوذ ایک مثال پیش کی ہے، کہ تمہارے غلام جو تمہارے ہی جیسے انسان ہوتے ہیں، کیا تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری دی ہوئی روزی میں وہ تمہارے شریک بن جائیں اور تمہارے برابر بن کر اس میں تمہاری طرف تصرف کریں اور ان سے تم اسی طرح ڈرنے لگو جس طرح آزاد انسان مال میں تصرف کرتے وقت اپنے دوسرے شریکوں سے ڈرتا ہے۔ جب یہ بات تمہیں پسند نہیں حالانکہ وہ غلام تمہارے ہی جیسے انسان ہوتے ہیں تو پھر یہ کیسے پسند کرتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے بندوں کو عبادت میں شریک کرو، اور اللہ اس بات کو کیسے پسند کرے گا کہ اس کی مخلوق کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کو اس کا مدمقابل ٹھہرایا جائے اور اس کی عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ عقل و ہوش والوں کے لئے اپنی وحدانیت کے دلائل یونہی کھول کر بیان کردیتا ہے، تاکہ ان میں غو رک رکے شرک سے تائب ہوں اور صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور ان تمام کھلی نشانیوں کے باوجود جو لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس کی وجہ دلائل و براہین میں کوئی نقص اور کمی نہیں ہوتی بلکہ یہ خواہشات نفس کی اتباع کا نتیجہ ہوتا ہے اور جس کو اللہ اس کے کرتوتوں کی وجہ سے گمراہ کر دے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور اس سے اللہ کے عذاب کو کون ٹال سکتا ہے؟