سورة آل عمران - آیت 51

إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۗ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

بیشک اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یہی سیدھا راستہ ہے ( کہ صرف اسی کی عبادت کرو)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

44۔ تمام انبیاء کرام کی دعوت بنیاد توحید باری تعالیٰ رہی ہے، عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی بنی اسرائیل کے سامنے یہی دعوت پیش کی، اور کہا کہ میرا اور تمہارا رب اللہ ہے، اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو۔ کچھ لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کیا اور ان کے پیرو کار بن گئے، اور کچھ نے ان کا انکار کردیا اور ان کی تکذیب کی، اور یہودیوں نے ان کی ماں مریم علیہا السلام کو زنا کے ساتھ متہم کیا۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے کفر کا یقین ہوگیا، اور یہ بات واضح ہوگئی کہ لوگوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے، تو انہوں نے بنی اسرائیل کو اپنی مدد کے لیے پکارا اور کہا کہ تم میں سے کون اللہ اور اس کے دین کی خاطر میری مدد کرنے کے لیے تیار ہے؟ تو حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے دین اور اس کے رسول کے مددگار ہیں۔ پھر کہا کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے، اور اے نبی ! آپ گواہ رہئے کہ ہم لوگ مسلمان ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ہر نبی کا ایک حواری (مخلص اور خاص مددگار) ہوتا ہے، اور زبیر میرے حواری ہیں (متفق علیہ) عیسیٰ (علیہ السلام) کا تمام تر توکل تو اللہ پر تھا، لیکن ظاہری اسباب کے طور پر انہوں نے اپنے پیروکاروں سے مدد مانگی، جن کی تعداد بارہ بتائی جاتی ہے، جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار قریش کے ظلم وجور سے تنگ آ کر ابو طالب وغیرہ سے مددطلب کی، اور مدینہ منورہ آنے کے بعد صحابہ کرام سے ہر مشکل وقت میں مدد طلب کی، اور انہوں نے اپنی جان و مال سے آپ کی مدد کی۔