سورة الروم - آیت 22

وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور حکمت الٰہی کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی آسمانوں اور زمین کی خلقت ہے اور طرح طرح کے رنگوں اور بولیوں کاپیدا ہونا ہے فی الحقیقت اس میں بڑی نشانیاں ہیں ارباب علم وحکمت کے لیے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٢) اور اس کے قادر مطلق اور وحدہ لاشریک ہونے کی یہ بھی دلیل ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان میں پائی جانے والی تمام عجیب و غریب مخلوقات کو پیدا کیا ہے اس نے انسانوں کو ہزاروں قسم کی بولیاں اور زبانیں سکھائیں اور ہر زبان کو دوسرے سے ممبز بنایا کہ کبھی ایک زبان دوسرے کے ساتھ خلط ملط نہیں ہوتی اور اس کے قادر مطلق ہونے کی یہ بھی دلیل ہے کہ تمام بنی نوع انسان کی اصل ایک ہی ہونے کے باوجود، قوموں کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اور ہر فرد اپنے چہرے مہرے میں دوسرے سے لاگ ہوتا ہے، کوئی دو فرد بشر بھی بالکل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے اور اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ ذات برحق انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔