سورة الروم - آیت 20

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور دیکھو) اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے جارہے ہو (٦)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٠) انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر اس کے قادر ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے اسے مٹی سے پیدا کیا ہے، یعنی آدم سے یا نطفہ سے جس کی اصل مٹی ہوتی ہے اور بظاہر مٹی اور انسان کی ذات و صفات کے درمیان کوئی مناسب نہیں معلوم ہوتی ہے، پھر وہ محض اللہ کی قدتر سے ناطق و متحرک انسان بن کر زمین میں پھیل گیا، اپنے وجود سے کرہ ارضی کو بھر دیا، قلعے بنائے، شہروں کو آباد کیا، خشکی اور تری کے راستے طے کئے، مال و دولت کے حصول کے لئے قریہ قریہ بستی بستی چھان مارا اور مختلف علوم و فنون ایجاد کئے، یہ ساری صلاحیتیں اور قدرتیں مٹی کے بنے جسم میں کس نے ودیعت کی، اس کا جواب یقیناً اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ کی ذات ہے جو ہر چیز قادر ہے۔