سورة الروم - آیت 17

فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

) پس پاکی ہے اللہ کے لیے اور آسمان اور زمین میں اس کے لیے ستائش ہے جب تم پر شام آتی ہے اور جب تم پر صبح ہوتی ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٨) اوپر کی آیتوں میں مومنوں اور کافروں کا انجام بیان کیا گیا، اس لئے اب حصول جنت اور عذاب جہنم سے نجات کا وسیلہ بیان کرنا مناسب رہا، واحدی نے مفسرین کا قول نقل کیا ہے کہ یہاں (فسبحان اللہ) ” صلوا للہ‘ یعنی ” اللہ کے لئے نماز پڑھو‘ کے معنی میں ہے۔ نحاس کا قول ہے کہ اس آیت کریمہ میں پانچوں نمازوں کا حکم دیا گیا ہے۔ ابن مردویہ، عبدالرزاق، ابن جریر اور حاکم وغیر ہم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ اس آیت کریمہ میں پانچوں نمازوں کے اوقات بیان کئے گئے ہیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ چونکہ نماز میں اللہ کی پاکی بیان کی جاتی ہے اور اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے، اسی لئے اسے تسبیح و تحمید سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (تمسون“ سے مغرب اور عشاء اور ” تصبحون“ سے فجر مراد ہے اور ” عشیاء“ سے عصر اور ” تظھرون“ سے نماز ظہر مراد ہے معلوم ہوا کہ حصول جنت اور عذاب جہنم سے نجات کا سب سے بڑا ذریعہ پانچوں وقتوں کی نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنا ہے۔