سورة آل عمران - آیت 47

قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مریم نے کہا : پروردگار مجھ سے لڑکا کیسے پیدا ہوجائے گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں؟ اللہ نے فرمایا : اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کوئی کام کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ“ ہوجا ” بس وہ ہوجاتا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

41: جب مریم علیہا السلام کو بذریعہ ملائکہ یہ بشارت مل گئی، تو اپنی مناجات میں کہا کہ اے میرے رب ! مجھے لڑکا کیسے ہوسکتا ہے؟ میرا نہ تو کوئی شوہر ہے اور نہ میرا ارادہ شادری کرنے کا ہے، اور نہ ہی میں بدکار عورت ہوں؟ تور فرشتوں نے اللہ کی طرف سے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کا ایسا ہی فیصلہ ہے کہ بغیر کسی مرد کے ملاپ سے وہ تمہیں بیٹا عطا کرے گا، اللہ تعالیٰ کسی سبب کا محتاج نہیں اور کوئی شے اسے عاجز نہیں کرسکتی۔