سورة القصص - آیت 22

وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جب موسیٰ مصر سے نکل کر مدین کی طرف روانہ ہوئے تو کہا کہ خدا مجھے ضرور سیدھا راستہ دکھائے گا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٢) موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکل کر مدین کی طرف متوجہ ہوئے جو فرعون کے حدود سلطنت سے خارج تھا اور اپنے رب سے دعا کرتے رہے کہ راستہ میں ان کے دشمن انہیں نہ جالیں چنانچہ بحفاظت حدود مصر سے نکل کر مدین کے علاقہ میں پہنچ گئے اور چلتے چلتے ایک کنواں کے پاس پہنچ گئے تو دیکھا کہ لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے اور سب اپنے اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں اور دو لڑکیاں الگ کھڑی ہیں ان کے قریب گئے اور پوچھا کہ وہ دور کیوں کھڑی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ جب سارے چرواہے اپنی اپنی بکریوں کو پانی پلا کر ہٹ جائیں گے تو ہم پلاسکیں گے اس لیے ہمارے والد بوڑھے ہیں اب ان سے یہ کام نہیں ہوسکتا ہے اور ہمارے گھر میں کوئی دوسرامرد بھی نہیں ہے اور ہم ان مردوں کے ساتھ مزاحمت نہیں کرنا چاہتے۔ ان دونوں کی بات سن کر موسیٰ (علیہ السلام) آگے بڑھے اور ان کی بکریوں کو پانی پلادیا اور پھر ایک درخت کے سائے میں جاکر بیٹھ گئے اور دعا کی کہ میرے رب روزی حاصل کرنے کاجوذریعہ ابھی میرے سامنے ظاہر ہوا ہے میں اس کا محتاج ہوں یعنی دونوں لڑکیوں کے باپ کو ایک مزدور کی ضرورت ہے اور مجھے روزی کی ضرورت ہے۔