سورة القصص - آیت 18

فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ۚ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اب موسیٰ شہر میں خوف زدہ ہو کر چھپنے لگے، اتفاق سے پھر وہی پہلاسا موقع پیش آگیا اور جس شخص نے کل ان سے مدد طلب کی تھی اس نے آج پھر فریاد کی، موسیٰ نے کہا تو تو بڑا گمراہ آدمی ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١١) اس غیر ارادی اور اچانک قتل کے حادثہ کے بعد موسیٰ خوف زدہ ہوگئے کہ معلوم نہیں فرعون کو جب اس حادثہ کا علم ہوگا توان کے ساتھ کیا کرے گا ابھی یہ خوف لاحق ہی تھا کہ دوسرے دن پھر وہی اسرائیلی ایکدوسرے قبطی کے ساتھ لڑرہا تھا، اور موسیٰ کو دیکھتے ہی انہیں اپنی مدد کے لیے پکارنے لگا، موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو بڑا جھگڑالو معلوم ہوتا ہے طاقت نہ رکھتے ہوئے سب سے جھگڑتا پھرتا ہے اور لوگوں کے لیے مصائب کاسبب بنتا ہے، پھر قبطی کو پکڑنے کے لیے دوڑے جو کافر تھا اور ان کا اور اس اسرائیلی کا دشمن تھا تو اس نے ان سے کہا کہ کل تم ایک قبطی کو قتل کرچکے ہو اور آج مجھے قتل کرنا چاہتے ہو تم سرزمین میں ظالم جابر بن کررہنا چاہتے ہو اصلاح پسند نہیں بنا چاہتے ہو۔ امام شوکانی اور جمال الدین قاسمی صاحب محاسن التنزیل نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے کہ اس بات کا قائل قبطی تھا، قرآن کی ظاہری عبارت اسی پر دلالت کرتی ہے نیز اس کیو کئی دلیل موجود نہیں ہے کہ گزشتہ دن کے قتل کا واقعہ کسی قبطی کو معلوم نہیں تھا بلکہ معلوم تھا اور اس کی خبر فرعون کو بھی ہوگئی تھی جبھی تو اس نے فوری طور پر اپنی مجلس منعقد کرکے موسیٰ کو قتل کروادینے کا فیصلہ صادر کردیا تھا اور جس کی خبر لے کر وہ اسرائیلی موسیٰ کے پاس آیا تھا جو خفیہ طور پر مسلمان تھا اور جو فرعون کی مجلس میں شریک ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ وہ موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اس نے ان سے کہا فرعون کی مجلس میں تمہاری قتل کی سازش ہورہی ہے اس لیے تم فورا کسی طرح اس شہر سے نکل جاؤ چنانچہ موسیٰ فورا ہی چھپتے چھپاتے وہاں سے نکلے، تاکہ کہیں پکر کر نہ لیے جائیں اور قتل نہ کردیے جائیں شہر سے نکلتے ہوئے انہوں نے دعا کی کہ میرے رب مجھے فرعون اور فرعونیوں اور ہر ظالم سے نجات دے اور انہیں مجھ تک پہنچنے نہ دے۔