سورة آل عمران - آیت 33

إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اللہ نے آدم، نوح، ابراہیم کے خاندان، اور عمران کے خاندان کو چن کر تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

29۔ اللہ تعالیٰ نے آدم اور نوح علیہما السلام کو نبوت کے لیے چن لیا، اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام عالم کے مقابلے میں چن لیا، آل ابراہیم میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدرجہ اولی داخل ہیں اس لیے کہ وہ اولاد ابراہیم سے تھے۔ علماء نے لکھا ہے کہ یہاں درحقیقت یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام کی صراحت برگزیدگی میں کمال شہرت اور امام الانبیاء ہونے کی وجہ سے ضروری نہ رہی۔ آل عمران سے مراد، مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہما السلام ہیں۔ حافظ سیوطی نے اپنی کتاب (الاکلیل) میں لکھا ہے کہ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء ملائکہ سے افضل ہیں اس لیے کہ العالمین میں فرشتے بھی داخل ہیں۔ اور اللہ نے انبیاء کو العالمین پر فضیلت دی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے بتایا کہ یہ خیر و برکت ان کی ذریت میں تسلسل کے ساتھ جاری رہی، مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی۔