سورة الشعراء - آیت 123

كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

قوم عاد نے رسولوں کی تکذیب کی (٧)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

35۔ نوح (علیہ السلام) کے بعد، اب ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم، قوم عاد کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، اس لیے کہ اس میں قریش کے لیے درس عبرت ہے، یہ واقعہ سورۃ الاعراف میں گذر چکا ہے اور وہاں بتایا جا چکا ہے کہ قبیلہ عاد کے لوگ عمان اور حضرت موت کے درمیان ریتیلے پہاڑوں کے دامن میں سکونت پذیر تھے، یہ علاقہ احقاف کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ قوم نوح کے بعد کا تھا۔ اللہ نے انہیں بڑا قوی، تنو مند اور ڈیل ڈول والا بنایا تھا، اور وہ لوگ بہت ہی سخت گیر قسم کے لوگ تھے۔ یہ علاقہ بڑا ہرا بھرا تھا، ہر قسم کے باغات پائے جاتے تھے، اور ان کی زمینوں کے درمیان نہریں جاری تھیں، گویا ہر طرح سے بھرے پڑے تھے، لیکن اللہ کے ناشکر گذار بندے تھے اور بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر رحم کرتے ہوئے انہی میں سے ہود (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا، جنہوں نے چار سو چونسٹھ سال کی عمر پائی تھی۔ وہ ایک طویل مدت تک قوم عاد کو ایمان کی دعوت دیتے رہے، لیکن وہ لوگ اپنے کفر و سرکشی پر اڑے رہے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔ اسی واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے یہاں مجمل طور پر بیان کیا ہے کہ قوم عاد نے ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کر کے گویا تمام انبیاء کی تکذیب کردی، اس لیے کہ سب کی دعوت ایک تھی۔ ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کے عقاب کا ڈر نہیں لگتا ہے کہ اس کے غیروں کو شریک بناتے ہو، اور دیگر معاصی کا ارتکاب کرتے ہو؟ مجھے اللہ نے تمہارے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ اس کا دین تم کو پہنچا دوں، اور میں اس بارے میں پورے طور پر امانت دار ہوں، اپنی طرف سے کچھ گھٹاتا بڑھاتا نہیں ہوں۔ اس لیے اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو، اور دیکھو، میں تبلیغ و دعوت کے کام کا تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ہوں، مجھے اپنے اجر و ثواب کی امید رب العالمین سے ہے، اس لیے کہ اسی نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے، اور اسی نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ ہود (علیہ السلام) نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا، تم آخرت سے کتنے غافل اور دنیا میں کس قدر منہمک ہوگئے ہو کہ آپس میں فخر و مباہات اور محض لہو ولعب کی نیت سے اونچی جگہوں پر اونچے اونچے مکانات اور محلات تعمیر کرتے ہو، اور وقت، قوت، جسمانی، اور اپنی دولت کا زیاں کرتے ہو، اور تمہاری کوتاہ بینی کا یہ حال ہے کہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہو، جبھی تو اونچے اونچے مکانات و محلات بناتے ہو اور تمہاری کوتاہ بینی کا یہ حال ہے کہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہو، جبھی تو اونچے اونچے مکانات و محلات بناتے ہو اور دل میں ہمیشگی کی زندگی کی امدی لگائے بیٹھے ہو، اور فکر آخرت اور اپنے انجام سے بالکل غافل ہو۔ اور تمہارے دل کی سختی کا یہ عالم ہے کہ دوسروں پر بے رحم ظالموں اور جابروں کی طرح چڑھ بیٹھتے ہو، کمزوروں اور ناتوانوں پر تمہیں رحم کرنا نہیں آتا ہے۔ اس لیے اگر تم دنیا و آخرت کی بھلائی چاہتے ہو تو ان قبیح اور برے اوساف سے اپنے آپ کو پاک کرو، ظلم و بربریت، تمرد و سرکشی اور کبر و غرور سے تائب ہوجاؤ، اللہ کی گرفت سے ڈرو، اور میری بات مانو، اس اللہ سے ڈرو، جس نے تمہیں وہ سب کچھ دیا ہے جن کا تمہیں علم ہے اس نے تمہیں اونٹ، گائے اور بکریاں دی ہیں، اولاد دی ہے، باغات دئیے ہیں، اور پانی کے چشمے دئیے ہیں جن کا پانی پیتے ہو، اس سے طہارت حاصل کرتے ہو، اور اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہو، اے میری قوم کے لوگو ! واقعہ یہ ہے کہ تمہارے شرک و معاصی کی وجہ سے میں تمہارے بارے میں دنیا اور آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہوں، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ دنیا میں وہ لوگ ہلاک کردئیے گئے، اور آخرت کا عذاب ان کا انتظار کررہا ہے۔