سورة البقرة - آیت 284

لِّلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، تم اسے ظاہر کرو، یا پوشیدہ رکھو ہر حال میں اللہ جاننے والا ہے۔ وہ تم سے ضرور اس کا حساب لے گا۔ اور پھر یہ اسی کے ہاتھ ہے کہ جسے چاہے بخش دے، جسے چاہے عذاب دے، وہ ہر بات پر قادر ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

379۔ اگر آدمی سفر میں ہو، اور خرید وفروخت کی نوبت آجائے اور کاتب میسر نہ ہو تو ایسی صورت میں حقوق کی توثیق رہن کے ذریعہ کردینی چاہئے، تاکہ رہن اس بات کا ثبوت ہو کہ رہن رکھے والے کے ذمہ اس آدمی کا حق ہے جس کے رہن موجود ہے۔ معلوم ہوا کہ اشیائے رہن اور ضمانتوں کے ذریعے لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے اور خلاف و نزاع کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رہن ہمیشہ صاحب حق کے بقضے میں رہنا چاہئے، اور یہ بات تحریر میں آجانی چاہئے۔ اگر راہن اور مرتہن کے درمیان مقدارِ قرض میں اختلاف واقع ہوجائے تو بات صاحب حق کی مانی جائے گی، اس لیے کہ رہن اس کے ہاتھ میں بطور و ثیقہ موجود ہے۔ آیت سے یہ بھی مستفاد ہے کہ گواہ کا اپنی گواہی کا چھپانا حرام ہے۔ 379: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ بندوں کے تمام احوال وکوائف کو جانتا ہے، ان کے دلوں کی ظاہر اور چھپی تمام باتوں کو جانتا ہے، اور ان پر ان کا محاسبہ کرے گا، جسے چاہے گا معاف کردے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ امام احمد، مسلم، نسائی وغیرہم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام بہت پریشان ہوئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : تم لوگ کہو کہ اے ہمارے رب ! ہم نے سنا اور اطاعت و بندگی کے لیے جھگ گئے۔ تو اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کو راسخ کردیا، اور اگلی آیت نازل ہوئی، یعنی لایکلف اللہ نفسا الایۃ، اور بات اس پر آ کر رکی کہ بندہ اسی قول و فعل کا ذمہ دار ہے جس کا اس نے ارتکاب کیا ہے، اور اس سے پہلی والی آیت منسوخ ہوگئی، جیسا کہ امام بخاری نے مروان الاصفر سے اور انہوں نے ایک صحابی رسول سے جو غالبا ابن عمر تھے روایت کی ہے کہ آیت وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ اس کے والی آیت کے ذریعہ منسوخ ہوچکی ہے یہی قول علی، ابن مسعود، شعبی، عکرمہ، سعید بن جبیر اور قتادہ کا ہے۔ لیکن ابن جریر نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ محکم ہے، اور ابن جریر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے، اور دلیل یہ پیش کی ہے کہ حساب عقاب کو لازم نہیں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ حساب لینے کے بعد معاف کردے، جیسا کہ صحیحین کی روایت سے ثابت ہوتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جب اپنے ایک بندے سے اس کے کان کے قریب جا کر اس کے گناہوں کا اعتراف کروالے گا، تو کہے گا کہ میں نے دنیا میں تمہاری پردہ پوشی کی تھی، اور آج تمہیں معاف کرتا ہوں بعض دوسرے حضرات جو اس آیت کے منسوخ ہونے کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ جن احادیث میں یہ آیا ہے کہ بندے کے دل میں جو کچھ گذرتا ہے، جب تک اپنے قول وعمل کے ذریعہ اس کی تصدیق نہ کردے اللہ اسے معاف کردے گا، تو اس سے مراد وہ خیالات پراگندہ ہیں جو بندے کے دل میں گذرتے ہیں، اور جن کے کر گذرنے کا وہ عزم نہیں کرتا اور یہاں اس آیت میں مراد وہ پختہ ارادہ اور دل کا وہ عزم مصمم ہے، جو عمل کے مترادف ہوتا ہے، اللہ بندے کا اس پر محاسبہ کرے گا، کیونکہ ایسی نیت اس کے کسب و عمل میں داخل ہے۔ جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے کہ لہا ما کسبت و علیہا ما اکتسبت۔