سورة الفرقان - آیت 22

يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس روز گناہ گاروں کے لیے کوئی خوشی نہ ہوگی اور یہ کہیں گے ہمارے اور ان کے درمیان کوئی رکاوٹ ہوجائے (٦)۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

10۔ اللہ تعالیٰ نے کہا، فرشتے کافروں کے پاس اس لیے نہیں آئیں گے کہ ان کے سامنے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صداقت کی گواہی دیں بلکہ موت کے وقت یا قیامت کے دن فرشتے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب جہنم کی خوشخبری لے کر آئیں گے، اور ان سے کہیں گے کہ آج تمہارے لیے اللہ کی مغفرت یا کوئی خوشخبری نہیں ہے، بلکہ جنت تمہارے اوپر جنت حرام کردی گئی ہے۔ آیت (23) میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ ابراہیم آیت (18) میں فرمایا ہے مثل الذین کفرو بربہم اعمالہم کرماد انشتدت بہ الریح، جو لوگ اپنے رب کا انکار کرتے ہیں، ان کے اعمال مثل اس راکھ کے ہیں جس پر تیز ہوا آندھی والے دن چلے۔ اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہائش کے لیے بہت ہی اچھی جگہ ملے گی، اور انہٰں بہت ہی عمدہ آرام گاہ دیا جائے اللہ تعالیٰ نے اسی سورت کی آیت (67) میں فرمایا ہے خالدین فیہا حسنت مستقرا ومقاما، اس میں جنتی ہمیشہ رہیں گے، وہ بہت ہی اچھی جگہ اور عمدہ مقام ہے۔