سورة النور - آیت 23

إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو لوگ پاک دامن عورتوں پر، کہ ایسی باتوں سے محض بے خبر ہیں اور اللہ پر ایمان رکھتی ہیں، تہمت لگاتے ہیں تو (یاد رکھو) ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت دونوں میں پھٹکار پڑی ور انہیں ایک بڑے ہی سخت عذاب سے دوچار ہونا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٤۔ اس آیت کے بارے میں ائمہ تفسیر کے درمیان اختلاف ہے۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ یہ ان سے متعلق ہے جنہوں نے عائشہ صدیقہ کے بارے میں کلام کیا تھا۔ مقاتل کہتے ہیں کہ یہ عبداللہ بن ابی کے بارے میں ہے، اور ضحاک اور کلبی کہتے ہیں کہ یہ آیت عائشہ صدیقہ اور دیگر امہات المومنین سے متعلق ہے، دوسری مسلمان عورتیں اور مرد اس میں داخل نہیں ہیں، لیکن راجح یہی ہے کہ اس آیت کا تعلق عبداللہ بن ابی سے ہے، ور علمائے تفسیر کے عام قاعدے کے مطابق اس کا حکم عام ہے کہ جو شخص کسی پاکدامن مسلمان عورت پر زنا کی جھوٹی تہمت لگائے گا وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ اللہ کی رحمت سے دور کردیا جائے گا، اور دنیا میں اس پر حد جاری کی جائے گی، اور آخرت میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اور اس دن ایسے لوگوں کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے برے کرتوتوں کی گواہی دیں گے، اور اللہ انہیں ان بد اعمالیوں کا پورا پورا بدلہ چکا دے گا، اور تب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی ذات برحق ہے۔ صاحب فتح البیان لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں عائشہ صدیقہ پر تہمت لگائے جانے کی جس شدت کے ساتھ نکیر کی ہے، ویسی کسی گناہ پر نہیں کی ہے۔ کبھی مجمل طور پر اس کی تردید کی ہے تو کبھی مفصل طور پر، اور اس تردید و انکار کا بار بار اعادہ کیا ہے، تاکہ لوگوں کو اس گناہ کی قباحت و شناعت کا صحیح اندازہ ہوسکے۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کر کے تائب ہوجائے گا تو اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے عائشہ صدیقہ کی عفت و پاکدامنی پر کلام کیا تھا۔