سورة البقرة - آیت 267

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مسلمانو ! جو کچھ تم نے (محنت مزدوری یا تجارت سے) کمائی کی ہو اس میں سے خرچ کرو یا جو کچھ ہم تمہارے لیے زمین میں پیدا کردیتے ہیں، اس میں سے نکالو، کوئی صورت ہو لیکن چاہیے کہ خدا کی راہ میں خیرات کرو تو اچھی چیز خیرات کرو۔ ایسا نہ کرو کہ فصل کی پیداوار میں سے کسی چیز کو ردی اور خراب دیکھ کر خیرات کردو (کہ بیکار کیوں جائے، خدا کے نام پر نکال دیں) حالانکہ اگر ویسی ہی چیز تمہیں دی جائے، تو تم کبھی اسے (خوشدلی سے) لینے والے نہیں مگر ہاں، (جان بوجھ کر) آنکھیں بند کرلو، تو دوسری بات ہے۔ یاد رکھو، اللہ کی ذات بے نیاز اور ساری ستائشوں سے ستودہ ہے (اسے تمہاری کسی چیز کی احتیاج نہیں، مگر اپنی سعادت و نجات کے لیے عمل خیر کے محتاج ہو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

346: انفاق اور کیفیت انفاق کے بیان کے بعد، اس مال کا حال بیان کیا جا رہا ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنا بہترین مال خرچ کریں، چاہے وہ مال بذریعہ تجارت حاصل ہوا ہو، یا کھیتوں سے حاصل شدہ غلے ہوں، کیونکہ ایمان کا یہی تقاضا ہے، اسی لیے اللہ نے دوسری جگہ فرمایا ہے لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون، کہ جب تک تم پسندیدہ چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے۔ آل عمران : 92۔ ردی اور گلا سڑا مال اللہ کی راہ میں نہیں دینا چاہئے۔ اس لیے کہ اللہ طیب اور پاک ہے، اور عمدہ اور اچھا مال ہی قبول کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ خراب مال اللہ کی راہ میں نہ خرچ کرو، حالانکہ خود تمہارا حال یہ ہے کہ اگر کوئی تمہارا قرض چکانے کے لیے خراب مال دے تو تم اسے بطیب خاطر قبول نہیں کروگے، آنکھیں بند کر کے بصورتِ جبر و اکراہ ہی قبول کروگے۔ براء بن عازب (رض) سے مروی ہے کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ کھجور پکنے کے زمانے میں لوگ مسجد نبوی میں دو عمودوں کے درمیان رسی سے کھجور کے گچھے لٹکا دیتے، تاکہ غریب مہاجرین کھایا کریں۔ بعض لوگ ان گچھوں میں ردی کھجوروں کے گچھے ملا دیتے تھے، اور سمجھتے تھے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تنبیہ فرمائی کہ ایسا کرنا جائز نہیں (ترمذی، ابن ماجہ، حاکم، بیقہی) بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مرادمال حرام ہے، کہ اللہ کی راہ میں حرام مال نہ خرچ کرو، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پہلا قول ہی صحیح ہے۔ امام شوکانی نے دونوں ہی مراد لیا ہے۔ یعنی اللہ کی راہ میں نہ حرام مال خرچ کرو اور نہ ہی ردی مال۔