سورة الأنبياء - آیت 66

قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ابراہیم نے کہا پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو تمہیں نہ تو کسی طرح کا نفع پہنچائیں نہ نقصان؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٢) ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں لاجواب کرتے ہوئے نہایت حقارت آمیز انداز میں کہا کہ پھر تم اللہ کو چھوڑ کر ایسے بتوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تمہیں نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ تف ہو تم پر اور تمہارے معبودوں پر کیا تمہیں اتنی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ تمہارا یہ فعل کتنا برا اور عقل سے کس قدر بعید ہے کہ کود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہوئے پتھروں کے سامنے جھکتے ہو اور انہیں اپنا معبود سمجھتے ہو۔ جب مشرکین کو ابراہیم کے استدلال نے عاجز بنا دیا، تو جیسا کہ ہمیشہ باطل پرستوں کا شیوہ رہا ہے کہ حق پرستوں کی دلیل سے بے بس ہو کر طاقت کا استعمال کرتے ہیں اور ظلم و استبداد کی طرح ڈالتے ہیں، انہوں نے آپس میں رائے کی کہ اب ابراہیم کو خاموش کرنے کی ایک ہی شکل رہ گئی ہے کہ ہم لوگ اپنے معبودوں کی عظمت برقرار رکھنے کے لیے اسے بھڑکتی آگی میں ڈال دیں تاکہ دنیا اس کی بے بسی کا نظارہ کرے اور ہر شخص جان لے کہ جو شخص ہمارے معبودوں کی عزت نہیں کرتا اسے ہم ایسی ہی درناک سزا دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک زبردست آگ جلائی، اور ابراہیم کو منجنیق کے ذریعہ دور سے اس آگ میں پھینک دیا، فخر الدین رازی اور ابو السعود نے لکھا ہے کہ ابراہیم اس آگ میں چالیس یا پچاس دن تک رہے، اس وقت ان کی عمر سولہ سال تھی، ماوردی لکھتے ہیں کہ اس وقت وہ چھبیس سال کے تھے، ابراہیم جو نہی آگ میں پھینکے گئے اللہ نے اسے حکم دیا کہ وہ ابراہیم کے لیے ٹھنڈی بن جائے، اور ٹھنڈی بھی اس قدر ہو کہ نقصان نہ پہنچائے بلکہ سکون و سلامتی کا باعث ہو۔ چنانچہ وہ ٹھنڈی اور آرام دہ بن گئی۔ امام احمد، ابن ماجہ اور ابن حبا وغیرہم نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب ابراہیم آگ میں ڈالے گئے تو چھپکلی کے علاوہ تمام چوپایوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی تھی چھپکلی آگ میں پھونک مارتی تھی اسی لیے رسول اللہ نے اسے مارنے کا حکم دیا ہے وہ زہریلی اور برص والی ہوتی ہے۔ محدث البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ ابراہیم جب آگ میں ڈالے گئے تو پہلا کلمہ جو زبان پر آیا حسبنا اللہ ونعم الوکیل تھا ہمارا اللہ ہمارے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا کارساز ہے۔ آیت (٧٠) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بت پرستوں نے تو ابراہیم کے خلاف سازش کی کہ انہیں جلا کر خاکستر کردیں لیکن اللہ نے ان کی سازش کو انہی کی طرف پھیر دیا، ان کی کوشش ضائع ہوئی، مال کا خسارہ ہوا اور مقصد حاصل نہیں ہوا، اور دیا نے جان لیا کہ ابراہیم حق پر ہیں اور وہ سراسر باطل پر۔