سورة الأنبياء - آیت 37

خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

آدمی کی سرشت ہی میں جلد بازی ہے (وہ مستقبل کا انتظار کرنا نہیں چاہتا) اچھا عنقریب تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھا دیں گے، اتنی جلدی نہ کرو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٦) نضر بن حارث جو رسول اللہ کا بہت بڑا دشمن تھا، وہ اور دیگر مشرکین مکہ عذاب آجانے کی جلدی کرتے اور رسول کریم اور مسلمانوں سے کہتے کہ اگر تم سچے ہو تو پھر کہاں ہے وہ عذاب جس کی تم لوگ دھمکی دیتے رہتے ہو، ان کی اسی عجلت پسندی کی طرف اللہ تعالیٰ نے یہاں اشارہ کیا ہے کہ انسان طبعی طور پر جلد باز واقع ہوا ہے، وہ اپنی نشانیاں عنقریب ہی دکھلائے گا، انہیں جلدی نہیں کرنی چاہیے، چنانچہ جنگ بدر میں سرداران قریش نہایت ذلت کے ساتھ مارے گئے، اور قیامت کا عذاب بھی قریب ہی ہے مرنے کے بعد اس کا نقشہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ آیت (٣٩) کا تعلق گزشتہ مضمون سے ہی ہے کہ اگر اہل کفر کو روز قیامت کا یقین ہوجاتا جب وہ جہنم کی آگ سے اپنے چہروں اور اپنی پیٹھوں کو نہیں بچا سکیں گے اور نہ ہی کوئی ان کی مدد کرسکے گا، تو عذاب آجانے کی جلدی نہ مچاتے، جہنم کی ہیبت ناکیاں قرآن کریم کی بہت ساری آیتوں میں بیان کی گئی ہیں، سورۃ الزمر آیت (١٦) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (لھم من فوقھم ظلل من النار ومن تحتھم ظلل) انہیں نیچے اوپر سے آگ کے شعلے مثل سائبان کے ڈھناک رہے ہوں گے۔ اور سورۃ الاعراف آیت (٤١) میں فرمایا ہے : (لھم من جھنم مھاد و من فوقھم غواش) ان کے لیے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر اس کا اوڑھنا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہم سب پر جہنم کی آگ کو حرام کردے۔ آیت (٤٠) میں وقوع قیامت کے بارے میں ہر شک و شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت آئے گی اور ایسی اچانک آئے گی کہ وہ پھر کسی کو مہلت توبہ و عمل نہیں دے گی۔