سورة طه - آیت 134

وَلَوْ أَنَّا أَهْلَكْنَاهُم بِعَذَابٍ مِّن قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزَىٰ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اگر ہما نہیں اس سے پہلے (یعنی نزول قرآن سے پہلے) عذاب نازل کر کے ہلاک کر ڈالتے تو یہ ضرور کہتے خدایا ! اس سے پہلے کہ ہم ظہور عذاب سے ذلیل و رسوا ہوں تو نے ایک پیغمبر کیوں نہ بھیج دیا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے اور ہلاک نہ ہوتے؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

٦٢۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو بھیج کر ور قرآن کریم نازل کر کے اب کسی مشرک و کافر کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رکھا ہے، یہی بات اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے کہ اگر ہم لوگوں کو بعثت نبی اور نزول کتاب سے پہلے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ہلاک و برباد کرنے سے پہلے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہیں بھیج دیا تھا، تاکہ ہم ایمان لے آتے، لیکن اب جبکہ ہم نے اپنا آخری رسول بھیج دیا ہے اور اپنی آخری کتاب نازل کردی ہے، تو ایمان لانے سے اب ان کے لیے کون سی چیز مانع ہے۔ آیت (١٣٥) میں نبی کریم کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ سرکش کافروں سے کہہ دیجیے کہ ہم اور تم سبھی اپنے انجام کے منتظر ہیں، انتظار کرلو، جب مسلمانوں کو عنقریب فتح و نصرت حاصل ہوگی تو جان لو گے کہ کون دین اسلام پر قائم تھا، کسے اللہ نے راہ نجات کی طرف ہدایت دی اور کون گمراہ ہو کر ہلاک و برباد ہوا۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا، مسلمان آہستہ آہستہ غالب ہوگئے گئے اور کفار و مشرکین جزیرہ عرب سے ناپید ہوگئے۔ فللہ الحمد