سورة البقرة - آیت 241

وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (یاد رکھو) جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو تو چاہیے کہ انہیں مناسب طریقہ پر فائدہ پہنچایا جائے (یعنی ان کے ساتھ جس قدر حسن سلوک کیا جاسکتا ہے کیا جائے) متقی انسانوں کے لیے ایسا کرنا لازمی ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

336: یہ آیت ان لوگوں کی دلیل ہے، جو ہر مطلقہ عورت کے لیے متعہ کو واجب قرار دیتے ہیں۔ متعہ کا مطلب یہ ہے کہ طلاق کے بعد (مہر کے علاوہ) عورت کو کچھ دیا جائے۔ سعید بن جبیر اور ابن جریر وغیرہما کی یہی رائے ہے اور بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ (متعہ) ہر حال میں واجب نہیں۔ اگر مطلقہ کے ساتھ شوہر نے مباشرت نہیں کی ہے اور اس کی مہر بھی مقرر نہیں ہوئی تھی، تو اس کے لیے متعہ واجب ہے، دوسری تمام مطلقہ عورتوں کے لیے مستحب ہے۔ اور ان کی دلیل قرآن کریم کی وہ آیت ہے جو گذر چکی۔ لَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِیْضَۃً ښ وَّمَتِّعُوْھُنَّ ۚ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ ۚ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِـنِیْنَ۔