سورة البقرة - آیت 239

فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر اگر ایسا ہو کہ تمہیں (دشمن کا) ڈر ہو (اور مقررہ صورت میں نماز نہ پڑھ سکو) تو پیدل ہو یا سوار جس حالت میں بھی ہو اور جس طرح بھی بن پڑے نماز پڑھ لو۔ پھر جب مطمئن ہوجاؤ (اور خوف و جنگ کی حالت باقی نہ رہے) تو چاہیے کہ اسی طریقے سے اللہ کا ذکر کیا کرو (یعنی نماز پڑھو) جس طرح اس نے تمہیں سکھلایا ہے اور جو تمہیں پہلے معلوم نہ تھا

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

334: یہاں اللہ تعالیٰ نے حالت جنگ میں نماز پڑھنے کی کیفیت بیان کی ہے، جہاں آدمی تمام ارکان و واجبات اور سنن و مستحبات کی رعایت کرتے ہوئے نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسی حالت میں چلتے ہوئے یا سواری پر ہی نماز پڑھ لو، چاہے رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف۔ امام مالک نے نافع سے روایت کی ہے کہ ابن عمر (رض) صلاۃ خوف (خوف کی حالت میں نماز) کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ اگر خوف اس سے بھی زیادہ شدید ہو تو چلتے ہوئے یا سواری پر نماز پڑھ لو، چاہے رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف، نافع کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بیان کی تھی۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے بھی روایت کی ہے۔