سورة البقرة - آیت 225

لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تمہاری قسموں میں جو لغو اور بے معنی قسمیں ہوں، ان پر اللہ پکڑ نہیں کرے گا (اور اس لیے ان کو کوئی اعتبار نہیں) جو کچھ بھی پکڑ ہوگی، وہ تو اسی بات پر ہوگی جو (سچ مچ کو تم نے سمجھ بوجھ کرکی ہے، اور اس لیے) تمہارے دلوں نے (اپنے عمل سے) کمائی ہے اور اللہ (ہر حال میں بخشنے والا، تحمل کرنے والا ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

317: بسا اوقات انسان کی زبان پر قسم کے الفاظ آجاتے ہی، ان سے اس کی کوئی نیت نہیں ہوتی، ایسی قسم کا کوئی اعتبار نہیں اللہ نے اپنا فضل و کرم کرتے ہوئے بندوں کو خبر دی ہے کہ ایسی قسم پر اللہ تعالیٰ مواخذہ نہیں کریں گے۔ مواخذہ اس قسم پر ہوگا جس میں دل کے قصد کا دخل ہو۔ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو غیر شعوری طور لا واللہ، بلی واللہ، کہہ دیتے تھے، (بخار، موطا، ابو داود)۔ فائدہ : مفسرین نے لکھا ہے کہ (لغو قسم) ہر وہ قسم ہے جس میں الفاظ کے ساتھ دل کی نیت شامل نہ ہو چاہے وہ کوئی بھی صورت اور کوئی بھی حالت ہو، اور ایسی قسم پر مواخذہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔