سورة البقرة - آیت 219

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے پیغمبر ! تم سے لوگ شراب اور جوے کی بابت دریافت کرتے ہیں ان سے کہہ دو، ان دونوں چیزوں میں نقصان بہت ہے اور انسان کے لیے فائدے بھی ہیں۔ لیکن ان کا نقصان ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے اور تم سے پوچھتے ہیں (راہ حق میں خرچ کریں تو) کیا خرچ کریں؟ ان سے کہہ دو جس قدر (تمہاری ضروریات معیشت سے) فاضل ہو۔ دیکھو اللہ اس طرح کے احکام دے کر تم پر اپنی نشانیاں واضح کردیتا ہے تاکہ دنیا اور آخرت (دونوں) کی مصلحتوں میں غور و فکر کرو

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

307: شراب کی حرمت کے بارے میں سب سے پہلے یہی آیت نازل ہوئی، اس کے بعد سورۃ نساء کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔ آیت یا ایہا الذین آمنو لاتقربوا الصلاۃ وانتم سکارا، یعنی اے ایمان والو ! تم جب نشہ کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، النساء :43۔ اور سب سے آخر میں سورۃ مائدہ کی آیت نازل ہوئی۔ آیت یا ایہا الذین امنوا انما الخمر و المیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون۔ انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر و یصدکم عن ذکر اللہ و عن الصلاۃ فہم انتم منتہون۔ اے ایمان والو، شراب اور جواب اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر، یہ سب گندی باتیں شیطان کا کام ہے، ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح پا سکو، شیطان تو چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعہ تمہارے آپس میں عداوت اور بغض پیدا کردے، اور اللہ کی یاد اور نماز سے تم کو باز رکھے، تو اب کیا تم شراب پینے سے رک جاؤ گے۔ المائدہ :90-91۔ اس کے بعد حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے کہا کہ اے اللہ ہم رک گئے، ہم رک گئے۔ دور جاہلیت اور ابتدائے اسلام میں لوگ شراب پیتے تھے،، اس لیے ی جب اس کا استعمال حرام کردیا گیا تو اس کے بعض ظاہری منافع کے پیش نظر، کچھ لوگوں کے ذہنوں میں ایک طرح کا اشکال باقی رہ گیا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ کیا واقعی شراب حرام کردی گئی ہے؟ اسی طرح لوگ جوا بھی کھیلا کرتے تھے اور اس کے بارے میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو اللہ نے فرمایا کہ لوگ آپ سے شراب اور جوا کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ اور کچھ ظاہری منافع بھی ہیں، لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ شراب انسان کے عقل پر اثر انداز ہوتی ہے، جو اس کے جسم میں سب سے قیمتی متاع ہے، اور جنگ و جدال، گالی گلوچ، بہتان و زُور اور ترک نماز و ترک اعمال صالحہ کا سبب بنتی ہے، اور جوا محتاجی، دشمنی اور بغض و حسد کا سبب ہوتا ہے۔ لوگوں نے شراب اور جوا کے منافع کے بارے میں لکھا ہے کہ شراب کی لوگ تجارت کرتے ہیں اور اس کے استعمال سے نشاط و طرب حاصل ہوتا ہے اور معدہ کی اصلاح ہوتی ہے اور جوا اسے فقیروں کو نفع پہنچتا ہے۔ لیکن فساد عقل کے بعد کسی ظاہری نفع کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی، اس لیے کہ عقل کے ذریعہ ہی آدمی ایمان و کفر اور خیر و شر میں تمیز کرتا ہے۔ علمائے کرام اور محققین نے اس کے علاوہ بھی شراب کے بہت سے نقصانات بتائے ہیں، مثال کے طور پر اس سے پیاس نہیں بجھتی، بچوں کی ذہنی اور جسمانی ترقی رک جاتی ہے، قوت ارادی کمزور ہوجاتی ہے، ٹی بی کی بیماری ہوتی ہے، دل اور خون کی نالیوں پر اثر انداز ہوتی ہے، اور بھی بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہے جن کا ذکر شراب سے متعلق لکھی گئی کتابوں میں اایا ہے اسی طرح جوا انسان کو محتاجی تک پہنچا دیتا ہے اس کی وجہ سے ایسی عداوتیں پیدا ہوتی ہیں جو قتل و غارت گری اور ایک دوسرے کی عورتوں کی عصمت دری کا سبب بنتی ہیں، والعیاذ باللہ۔ 308: بعض صحابہ کرام نے زکاۃ فرض ہونے سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنے مال کا کتنا حصہ خرچ کریں، تو اللہ نے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اہل وعیال پر خرچ کرنے کے بعد جو بچ جائے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ ہی اپنی آیتیں کھول کھول کر تم لوگوں کے لیے بیان کردیتا ہے تاکہ تم لوگ دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی حقیقت کے بارے میں غور و فکر کرتے رہو۔ صحیحین میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد ہو، اور ابتدا اس آدمی سے کرو، جس کی کفالت تمہارے ذمہ ہو۔ فائدہ : ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہ حکم فرضیت زکاۃ والی آیت کے ذریعہ منسوخ ہوگیا ہے، اور عطاء خراسانی اور سدی وغیرہ کا خیال ہے کہ آیت زکاۃ کے ذریعہ اس حکم کی تفصیل بیان کردی گئی ہے کہ آدمی اپنے مال میں سے کیا خرچ کرے اور کن لوگوں پر خرچ کرے۔