سورة البقرة - آیت 214

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ (محض ایمان کا زبانی دعوی کرکے) تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو تمہیں وہ آزمائشیں پیش ہی نہیں آئی ہیں جو تم سے پہلے لوگوں کو پیش آچکی ہیں۔ ہر طرح کی سختیاں اور محنتیں انہیں پیش آئیں، شدتوں اور ہولناکیوں سے ان کے دل دہل گئے۔ یہاں تک کہ اللہ کا رسول اور جو لوگ ایمان لائے تھے پکار اٹھے اے نصر الٰہی ! تیرا وقت کب آئے گا؟ (تب اچانک پردۂ غیب چاک ہوا اور خدا کی نصرت یہ کہتی ہوئی نمودار ہوگئی) ہاں گھبراؤ نہیں خدا کی نصرت تم سے دور نہیں ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

302: اس میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کا امتحان لیتا ہے اور جس کا جس درجہ کا ایمان ہوتا ہے، اسی درجہ کا اس کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ گذشتہ انبیاء ومومنین کے ساتھ یہی اللہ کی سنت رہی ہے، اور اللہ کی یہ سنت بدل نہیں سکتی، جو بھی اللہ کے دین پر چلے گا اس کی آزمائش ہونی ضروری ہے، تو جو لوگ صبر و استقامت سے کام لیں گے، اللہ تعالیٰ انہیں سعادت نصیب فرمائے گا اور جو لوگ آزمائش میں پورے نہیں اتریں گے، اور دنیاوی پریشانیوں اور مصائب و آلام کو عذاب آخرت تصور کرلیں گے، انہیں آخرت میں محرومیوں اور ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ اللہ نے مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ بغیر امتحان و آزمائش سے گذرے ہوئے جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تمہاری ویسی آزمائش ہوئی ہی نہیں، جیسی آزمائش گذشتہ انبیاء اور مومنین کی ہوئی، ان پر جو مصیبتیں آئیں ان کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والے شدت کرب و الم سے چیخ پڑے کہ اے اللہ، اب تو اپنی مدد بھیج دے، اور جب ان کا امتحان ہوچکا تو اللہ نے کہا کہ ہاں، اب اللہ کی مدد میرے مومن و صالح بندوں سے قریب ہے، کیونکہ اللہ تو ہر چیز پر ہر وقت قادر ہے، اللہ تو آزمانا چاہتا تھا کہ میدانِ عمل میں کون بندہ صادق ہے۔ بخاری نے خباب بن الارت (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنائے لیٹے تھے، اور مشرکین کی زیادتی انتہا کو پہنچ رہی تھی، تو ہم نے کہا کہ اب تو ہمارے لیے اللہ کی مدد مانگئے، اب تو ہمارے لیے دعا کیجئے؟ تو آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے زمانہ میں مسلمان آدمی کو پکڑ لیا جاتا تھا، اور خندق کھود کر گاڑ دیا جاتا تھا، پھر آری سے اس کے دو ٹکڑے کر دئیے جاتے، یا لوہے کے کنگھے سے اس کا گوشت ہڈی سے الگ کردیا جاتا تھا، لیکن یہ عذاب اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتا تھا، اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ اس دین کو پورا کرے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرت موت تک جائے گا، اور اسے اللہ کے علاوہ کسی کا ڈر نہیں ہوگا، یا چرواہا اپنی بکریں کے بارے میں بھیڑیا سے ڈرے گا، لیکن تم لوگ جلدی کر رہے ہو،