سورة الكهف - آیت 47

وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (دیکھو وہ آنے والا) دن جب ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور زمین کو تم دیکھو گے کہ اپنی اصلی حالت میں ابھر آئی ہے اور (اس وقت) ہم تمام انسانوں کو (اپنے حضور) اکٹھا کردیں گے۔ کوئی نہ ہوگا جسے چھوڑ دیا ہو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٤) دنیا کی بے ثباتی، اور قیامت میں اعمال صالحہ کا اجر و ثواب بیان کرنے کے بعد آخرت کے کچھ احوال بیان کرنا مناسب رہا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ اس دن کو یاد کیجئے جب ہم پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ کر فضا میں چلائیں گے یا انہیں گرد و غبار بنا کر فضا میں اڑائیں گے، سورۃ النمل آیت (٨٨) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمر مر السحاب) اور آپ پہاڑوں کو اپنی جگہ جمے ہوئے خیال کریں گے، لیکن وہ بھی بادل کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اور سورۃ الواقعہ آیات (٥، ٦) میں فرمایا ہے : (وبست الجبال بسا۔ فکانت ھباء منبثا) اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے پھر وہ مانند پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوجائے گی، اس پر نہ کوئی عمارت ہوگی، نہ پہاڑ، نہ درخت اور نہ کوئی اور چیز اور اللہ تعالیٰ تمام جن و انسان کو میدان محشر میں جمع کرے گا، کوئی ایک فرد بھی نہیں چھوٹ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الواقعہ آیات (٤٩، ٥٠) میں فرمایا ہے : (قل ان الاولین والاخرین۔ لمجموعون الی میقات یوم معلوم) آپ کہہ دیجیے کہ سب اگلے پچھلے ضرور جمع کیے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت۔