سورة الكهف - آیت 32

وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کی ایک مثال سنا دو، دو آدمی تھے، ان میں سے ایک کے لیے ہم نے انگور کے دو باغ مہیا کردیئے، گردا گرد کھجور کے درختوں کا احاطہ تھا، بیچ کی زمین میں کھیتھی تھی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٩) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو حکم دیا ہے کہ مذکور بالا کبر و نخوت والے مشرکین مکہ کی عبرت کے لیے بنی اسرائیل کے دو شخصوں کی مثال بیان کردیجئے جن میں سے ایک کافر تھا، اس کے پاس انگوروں کے دو باغ تھے، جنہیں کھجور کے درختوں نے ہر چہار جانب سے گھیر رکھا تھا، اور دونوں باغوں کے درمیان کھیتی تھی، گویا اللہ نے اسے انواع و اقسام کے پھل اور کھانے کی چیزیں دے رکھی تھیں، دونوں باغوں میں ہر سال خوب پھل آتا تھا، کبھی کمی نہیں ہوتی تھی اور دونوں کے درمیان اللہ نے نہر بھی جاری کردی تھی، اور اس کافر کے پاس دونوں باغوں کے علاوہ دیگر اموال بھی تھے، اس نے مسلمان اسرائیلی سے دوران گفتگو کہا کہ میں تم سے زیادہ مالدار ہوں اور جاہ حشم اور اولاد و خدم بھی میرے پاس تم سے زیادہ ہیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس نے مسلمان کا ہاتھ پکڑا اور باغ میں داخل ہو کر اپنے کفر و استکبار کا اظہار کرتے ہوئے گھومنے لگا اور اس کی خوبیاں بیان کرنے لگا، اور چونکہ وہ زمانے کی ابدیت کا قائل تھا اس لیے کہنے لگا کہ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ میرے یہ باغ ختم ہوجائیں گے اور چونکہ وہ آخرت اور وہاں کے حساب و کتاب کا قائل نہیں تھا، اس لیے کہا کہ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ جسے لوگ قیامت کہتے ہیں وہ کبھی آئے گی، اور اگر بالفرض مان بھی لوں کہ قیامت آئے گی تو وہاں مجھے ان باغوں سے بہتر باغ ملے گا، اس لیے کہ اللہ کینگاہ میں میرا مقام اعلی ہونے کی وجہ سے ہی مجھے یہاں یہ سب کچھ ملا ہے، اس لیے اس زندگی میں مجھے بدرجہ اولی اس سے اچھی نعمتیں ملیں گی، اس کی یہ بات سن کر مسلمان اسرائیلی نے اس سے کہا، کیا تم اپنے اس خالق کا انکار کر رہے ہو جس نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے اور تمہیں نطفہ سے پیدا کیا ہے اور مرد کی شکل میں تمہیں مکمل انسان بنایا ہے؟ مفسر ابو السعود لکھتے ہیں کہ آیت کے اس حصہ میں بعث بعد الموت کی دلیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کی تصریح سورۃ الحج آیت (٥) (یا ایھا الناس ان کنتم فی ریب من البعث فانا خلقنکم من تراب) میں کردی گئی ہے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں بعث بعد الموت میں شبہ ہے، تو سوچو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے، اور سورۃ البقرہ آیت (٢٨) میں آیا ہے : (کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم) کہ تم اللہ کا کیسے انکار کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے تو اس نے تمہیں زندگی دی، مسلمان اسرائیلی نے مزید کہا کہ میں تمہاری جیسی بات نہیں کرتا ہوں میں تو اعتراف کرتا ہوں کہ اللہ ایک ہے، وہی سب کا رب ہے، اور میں اس کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہیں بناتا ہوں۔