سورة البقرة - آیت 201

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو (دنیا و آخرت دنوں کی فلاح چاہتے ہیں۔ وہ) کہتے ہیں خدایا ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچالے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

290۔ اس دعا میں دنیا و آخرت کی ہر بھلائی جمع کردی گئی ہے، اور ہر شر سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے، دنیا میں بھلائی، ہر دنیاوی خیر کو شامل ہے، اور آخرت میں بھلائی کی سب سے اعلی شے اللہ کی رضا اور دخول جنت ہے۔ احادیث میں اس دعا کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ امام بخاری (رح) نے انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کثرت سے یہ دعا کرتے تھے۔ ابو داود وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہی دعا کرتے تھے۔ امام احمد اور امام مسلم نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مریض کی عیادت کی جو سوکھ کر کانٹا ہوگیا تھا، آپ نے اسے یہی دعا کرنے کی نصیحت کی، اس نے ایسا ہی کیا اور اس کی بیماری دور ہوگئی۔