سورة الإسراء - آیت 20

كُلًّا نُّمِدُّ هَٰؤُلَاءِ وَهَٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ہم ہر فریق کو اپنی پروردگاری کی بخشائشوں سے (دنیا میں) مدد دیتے ہیں، ان کو بھی (کہ صرف دنیا ہی کے پیچھے پڑگئے) اور ان کو بھی (کہ آخرت کے طالب ہوئے اور راہ حق پر چلے) اور (اے پیغمبر) تیرے پروردگار کی بخشش عام کسی پر بند نہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٣) جہاں تک دنیاوی زندگی کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی اس کے تمام ہی بندوں کو شامل ہے، چاہے وہ مومن ہوں یا کفر، وہ دونوں قسم کے لوگوں کو زندگی کے آخری لمحہ تک روزی پہنچاتا ہے۔ البتہ موت کے بعد دونوں کے احوال مختلف ہوجائیں گے جس کا مقصد حیات صرف دنیا طلبی ہوگی، اسے جہنم کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا، اور جو آخرت کا طلبگار ہوگا اسے جنت میں جگہ ملے گی، دنیا میں کسی کافر کا کفر اور کسی نافرمان کی نافرمانی اللہ کی روزی سے محرومی کا سبب نہیں بنتی ہے۔ آیت (٢١) میں نبی کریم کو مخاطب کر کے تمام بنی نوع انسان سے کہا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی نعمتوں کی تقسیم میں اپنی حکمت کی بنیاد پر ایک کو دوسرے پر فوقیت دیتا ہے، کسی کو زیادہ دیتا ہے اور کسی کو کم، کوئی قوی ہوتا ہے اور کوئی کمزور، کوئی صحت مند ہوتا ہے اور کوئی بیمار، لیکن آخرت میں درجات کی کمی بیشی اور ایک کا دوسرے پر فوقیت پانا، زیادہ واضح ہوگا، خاص طور پر مومن و کافر کے درمیان یہ تفریق زیادہ کھل کر سامنے آجائے گی، کہ مومن اللہ کے فضل و کرم سے جنت میں داخل کردیا جائے گا اور کافر کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ آیت (٢٢) میں آخرت کی کامیابی اور جنت میں اعلی مقام حاصل کرنے کا بنیادی عمل یہ بتایا گیا کہ آدمی شرک سے دوری اختیار کرے اور ایمان باللہ کے تقاضوں کو پورا کرے اس لیے کہ جو شخص عبادت میں اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک کرتا ہے وہ اس کا بدترین بندہ ہوتا ہے اور وہ اسے انہی جھوٹے معبودوں کے سپرد کردیتا ہے اور اس کی نصرت و تائید سے اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ سورۃ آل عمران آیت (١٦٠) میں ہے : (وان یخذلکم فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہ) کہ اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے۔