سورة البقرة - آیت 12

أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یاد رکھو یہی لوگ ہیں جو خرابی پھیلانے والے ہیں اگرچہ (جہل و سرکشی سے اپنی حالت کا) شعور نہیں رکھتے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

24۔ اللہ تعالیٰ نے ان زعم باطل کی تردید کی کہ ان سے بڑھ کر فسادی کون ہوسکتا ہے اور اس سے بڑا فساد اور کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا جائے، اس کے دین سے لوگوں کو روکا جائے، اللہ اور اس کے اولیاء کو دھوکہ دیا جائے، اور اس کے دشمنوں سے دوستی کی جائے۔ 25۔ مرض نفاق میں مبتلا ہونے کے سبب حق و باطل کے درمیان تمیز کی حس بھی کھو چکے ہیں، اس لیے زمین میں فساد پھیلانے کو اصلاح سمجھ رہے ہیں۔ زمین میں اصلاح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا جائے، اس کی بندگی کی جائے اس کے خلاف کرنا، زمین میں فساد پھیلانا اور تباہی و بربادی لانا ہے۔