سورة البقرة - آیت 190

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (دیکھو) جو لوگ تم سے لڑائی لڑ رہے ہیں چاہیے کہ اللہ کی راہ میں تم بھی ان سے لڑو۔ (پیٹھ نہ دکھلاؤ) البتہ کسی طرح کی زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو زیادتی کرنے والے ہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

271: ان آیتوں میں مومنوں کو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور مسلمانوں میں ذرا قوت آگئی تو انہیں حکم دیا گیا کہ اب دشمن کا مقابلہ طاقت سے کرو، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو، لیکن زیادتی نہ کرو، یعنی نہ جنگ کی ابتدا تمہاری طرف سے ہونی چاہئے اور نہ جن سے جنگ کرنے سے تمہیں منع کیا گیا ہے ان سے جنگ کرو (مثال کے طور پر عورتیں، بوڑے، پاگل، بچے، گرجوں میں رہنے والے، اور جن سے تمہارا معاہدہ ہے انہیں قتل نہ کرو) کسی کا مثلہ نہ کرو، حیوانات کو قتل نہ کرو، اور درختوں کو نہ کاٹو، اور اسلام کی دعوت دئیے بغیر اچانک کسی قوم پر حملہ نہ کرو، اس لیے کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار کقریش کے بارے میں بالخصوص فرمایا کہ جو لوگ تم سے جنگ کریں انہیں جہاں پاؤ قتل کرو، اور جس شہر سے انہوں نے تم کو نکالا، مال و جائداد پر قبضہ کرلیا، تمہیں آزمائشوں میں مبتلا کیا، اور تمہیں تمہارے دین سے نکال دینا چاہا، یہ جرائم قتل سے کہیں بڑھ کر ہیں، اور دیکھو مسجد حرام کے پاس ان سے قتال نہ کرو، ہاں اگر وہاں پر قتال کی ابتدا ان کی طرف سے ہوتی ہے تو پھر فرار کی راہ نہ اختیار کرو، بلکہ انہیں قتل کرو، اس لیے کہ کافروں کو ایسا ہی بدلہ ملنا چاہیے، اور اگر وہ قتال سے باز رہیں تو تم بھی رک جاؤ، اللہ غفور رحیم ہے۔ اور ان سے قتال کرو، تاکہ حرم سے فتنہ و فساد کا صفایا ہوجائے اور تاکہ وہاں اللہ کے علاوہ کسی کی پرستش نہ ہو، نہ اس کے علاوہ کسی سے ڈرا جائے، نہ کوئی شخص ابتلاء و آزمائش میں مبتلا کیا جائے، اور نہ دین حق پر چلنے کی وجہ سے اسے ستایا جائے۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بحیثیت فاتح مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور جن مشرکین مکہ نے اسلام قبول نہیں کیا انہیں معاہدہ کی مدت ختم ہوجانے کے بعد مکہ سے نکل جانا پڑا، اور مسجد حرام بتوں اور مشرکوں سے پاک ہوگیا، اور مسلمان وہاں باعزت زندگی گزارنے لگے۔