سورة النحل - آیت 62

وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ الْحُسْنَىٰ ۖ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَأَنَّهُم مُّفْرَطُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (دیکھو) یہ اللہ کے لیے ایسی باتیں ٹھہراے ہیں جنہیں خود (اپنے لیے) پسند نہیں کرتے ان کی زبانیں جھوٹے دعووں میں بے باک ہیں۔ ( یہ کہتے ہیں) کہ ان کے لیے (ہر حال میں) اچھائی ہی اچھائی ہے۔ ہاں البتہ ان کے لیے (دوزخ کی) آگ ہے۔ البتہ یہ سب سے پہلے اس میں پہنچنے والے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٦) آیات (٥٦، ٥٧) میں مشرکین مکہ کے جس بدترین جرم کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک بناتے ہیں، اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے ہیں، ور اس پر اللہ تعالیٰ نے جو شدید نکیر کی ہے اسی کی مزید تاکید اور مشرکین کی زجر و توبیخ کے طور پر کہا جارہا ہے کہ وہ خود تو گوراہ نہیں کرتے کہ کوئی ان کے مال و جائیداد میں ان کا شریک بن جائے، اور اللہ کے لیے غیروں کو شریک بناتے ہیں، اور جن لڑکیوں کی نسبت اپنی طرف کرنا اپنے لیے معیوب سمجھتے ہیں، انہی کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ پر اس افترا پردازی کے باوجود کہتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت آئے گی تو ہمارا انجام اچھا ہی ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ فصلت آیت (٥٠) میں منکرین قیامت کا قول نقل کیا ہے۔ (ولئن رجعت الی ربی ان الی عندہ للحسنی) کہ اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹا دیا گیا تو یقینا مجھے اس کی جانب سے اچھا انجام ملے گا۔ اور سورۃ الکہف آیت (٣٦) میں فرمایا ہے : (وما اظن الساعۃ قائمۃ ولئن رددت الی ربی لاجدن خیرا منھا منقلبا) یعنی میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آئے گی اور اگر مجھے اپنے رب کے پاس جانا ہی پڑا تو اس (دنیاوی باغ) سے بہتر انجام وہاں ملے گا۔ یعنی بد عملی کرتے ہیں اور اللہ سے ناممکن نتیجہ کی تمنا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے اس زعم باطل اور جھوٹی تمنا کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا ٹھکانا جہنم کے سوا کہیں نہیں ہوگا، اور اس میں وہ بہت جلد ڈال دیئے جائیں گے۔