سورة النحل - آیت 31

جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْزِي اللَّهُ الْمُتَّقِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

دائمی (راحت و سرور کے) باغ جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اس لیے کبھی خشک ہونے والے نہیں) جو کچھ چاہیں گے وہاں ان کے لیے مہیا ہوجائے گا، اسی طرح اللہ متقیوں کو (ان کی نیک عملی کا) بدلہ دیتا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٩) اس جنت کی صٖت بیان کی گئی ہے جو اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے کہ اس میں درخت ہوں گے، نہریں جاری ہوں گی، حور و قصور ہوں گے، اور کھانے پینے کی ہر لذیذ چیز ہوگی، اور اللہ کی جانب سے انتہائے اکرام یہ ہوگا کہ وہاں ہر وہ شے ہوگی جس کی اہل جنت خواہش کریں گے، آیت کے آخرت میں فرمایا گیا کہ اللہ اہل تقوی کو ایسے ہی اچھے بدلے دیا کرتا ہے۔