سورة البقرة - آیت 171

وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً ۚ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (حقیقت یہ ہے کہ) جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو ان کی مثال ایسے ہے (یعنی انہیں کورانہ تقلید کی جگہ عقل و ہدایت کی دعوت دینا ایسا ہے) جیسے ایک چرواہا چارپایوں کے آگے چیختا چلتا ہے کہ چارپائے کچھ بھی نہیں سنتے مگر صرف ہلانے اور پکارنے کی صدائیں۔ وہ بہرے گونگے اندھے ہو کر رہ گئے پس کبھی سوچنے سمجھنے والے نہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

248: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو جانوروں سے تشبیہہ دیا ہے کہ جس طرح چرواہا جب اپنے جانوروں کو آواز دیتا ہے تو وہ جانور صرف آواز سن پاتے ہیں، اس کا معنی کچھ بھی نہیں سمجھتے، بعینہ یہی حال ان کافروں کا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں راہ ہدایت پر چلنے کے لیے پکارتا ہے، قرآن اتارتا ہے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں، لیکن وہ اپنی شومئی قسمت سے کچھ بھی تو نہیں سمھ پاتے، اس لیے کہ عقل صحیح سے وہ محروم ہیں، وہ بہرے ہیں کہ کچھ بھی نہیں سنا پتے، گونگے ہیں کہ حق کی آواز کا جواب نہیں دے پاتے، اور اندھے ہیں کہ ہزار دلیلوں کے باوجود صڈاقت ان کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔