سورة البقرة - آیت 169

إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

وہ تو تمہیں بری اور قبیح باتوں ہی کے لیے حکم دے گا۔ نیز اس (گمراہی) کے لیے اکسائے گا کہ اللہ کے نام سے جھوٹی باتیں کہو جن کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

246: شیطان کی عداوت کی تفصیل بتائی گئی ہے کہ وہ تمہیں معاصی کا بالعموم اور فواحش کا بالخصوص حکم دیتا ہے۔ جیسے زنا، شراب، قتل اور دوسروں پر زنا کی تہمت لگانا وغیرہ اور تمہیں شیطان اس بات کا بھی حکم دیتا ہے کہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کرو جن کا تم علم نہیں رکھتے ہو۔ فائدہ : اللہ کے بارے میں بغیر علم بات کرنے میں بہت سی چیزیں داخل ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا انکار کرنا یا اس کی تاویل کرنا، اللہ کا کسی کو شریک بنان، بغیر علم و بصیرت کے کہنا کہ اللہ نے یہ چیز حلال اور وہ چیز حرام کی ہے، اس کام کا حکم دیا ہے اور اس سے منع کیا ہے اور اس سلسلے کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ کوئی گمراہ فرقہ اللہ یا اس کے رسول کے کلام کی تاویل کر کے اپنی گمراہی کو حق ثابت کرنے کے لیے دلیل فراہم کرے۔