سورة البقرة - آیت 168

يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے افراد نسل انسانی ! زمین میں جس قدر حلال اور پاکیزہ چیزیں (تمہاری غذا کے لیے) مہیا کردی گئی ہیں شوق کسے کھاؤ اور (یہ جو لوگوں نے اپنے وہموں خیالوں سے طرح طرح کی رکاوٹیں اختیار کر رکھی ہیں تو یہ شیطانی وسوسے ہیں۔ تم) شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

244: جب یہ بیان ہوچکا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہی ہر شے کا خالق و مالک ہے، تو اب یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ وہی اکیلا روزی دینے والا ہے، اور اسی نے انسانوں کے لیے زمین پر موجود ہر حلال اور طیب (یعنی جو فی نفسہ لذیذ ہو اور جسم و عقل کے لیے نقصان دہ نہ ہو) کو مباح قرار دیا ہے، اور شیطان کے نقش قدم پر چلنے سے منع فرمایا ہے، اس لیے کہ شیطان کے بہکاوے میں آکر دور جاہلیت والے کئی قسم کے جانوروں کو بتوں کی طرف مختلف انداز میں منسوب کرتے، اور ان کا گوشت کھانا حرام سمجھتے تھے۔ اس کی تفصیل سے سورۃ مائدہ آیت 103 میں آئے گی۔ 245: مقصود شیطان سے نفرت دلانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے آیت ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدوا انما یدعو حزبہ لیکونوا من اصحاب السعیر۔ کہ شیطان بلاشبہ تمہارا دشمن ہے، سو تم بھی اس کو دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو محض اپنے گروہ کو اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ آتش دوزخ میں پڑیں، الفاطر : 6۔