وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۙ أُولَٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
اور جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ اللہ کا عہد مضبوط کرنے کے بعد پھر اسے توڑ دیتے ہیں اور جن رشتوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں قطع کر ڈالتے ہیں اور ملک میں شر و فساد بپا کرتے ہیں تو ایسے ہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا ٹھکانا۔
(21) اب غیر اہل ایمان کی صفات اور ان کا انجام بیان کیا جارہا ہے کہ جو لوگ اللہ سے کیے گئے عہود و مواثیق کا خیال نہیں رکھتے اور جن اوامر و نواہی حکم دیا گیا ہے ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے، اور جن تعلقات، رشتوں اور قرابتوں کو جوڑے رکھنے کی انہیں نصیحت کی گئی ہے ان کے پاس نہیں رکھتے، اور کفر و معاصی کے ارتکاب کے ذریعہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ایسے لوگ اللہ کی لعنت کے مستحق بن جاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔